سری نگر ، 30؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل(کیگ)نے مریضوں کے لیے 82.74لاکھ روپے کی ناقص دوائیں تقسیم کرنے کو لے کر جموں کشمیر کے محکمہ صحت اور میڈیکل تعلیم کوتنقید کانشانہ بنایا ہے۔ریاستی اسمبلی میں اس ہفتے پیش کی گئی رپورٹ میں سی اے جی نے کہا کہ سری نگر اور جموں میں خوراک کنٹرولر تنظیموں نے 2010-15کے دوران صحت کے اداروں سے 1833نمونے لیے تھے جن میں سے 43کو صحیح معیار کا نہیں پایا گیا۔جن میڈیکل اداروں سے نمونے لیے گئے تھے، ان کے ڈاٹا کی دوبارہ جانچ کرنے پر پتہ چلا کہ مریضوں کو فراہم کرانے کے لیے جاری 82.74لاکھ کی 50.95لاکھ گولیاں، کیپسول اور انجکشن اعلی معیار کے نہیں تھے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ این آر ایچ ایم سی ایس ایس کے تحت دوائیں ، مشینری اور آلات خریدنے کے لیے الاٹ کئے گئے کل 167.29کروڑ روپیوں میں سے 99.05کروڑ روپے(59فیصد)خرچ نہیں کئے گئے تھے جس کا نتیجہ مریضوں کو مطلوبہ فائدہ نہیں پہنچنے کی شکل میں نکلا۔مشینری اور آلات کی خریداری کے سلسلے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ آڈٹ سے پتہ چلا کہ جانچ صحت کے اداروں کی طرف سے 2010-15کے دوران جاری کئے گئے 81.57کروڑ روپے کے 1014فراہمی آرڈر میں سے 11.41کروڑ روپے کے 93فراہمی آرڈر ایسی قیمت کے معاہدہ پر رکھے گئے تھے، جن کی قانونی حیثیت ختم ہو چکی تھی۔